جے کے این ایس ؍ راجپورہ پلوامہ میں فورسز زیادتیوں کے خلاف مکمل ہڑتال سے معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق کل شام گرنیڈ حملے کے بعد فورسز اہلکار بستے میں گھس گئے اور لوگوں کی ہڈی پسلی ایک کرنے کے ساتھ ساتھ رہائشی مکانات کی توڑ پھوڑ کی جبکہ دو نوجوانوں کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ دفاعی ترجمان نے مقامی لوگوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ پھیلائی جانے والی افواہیں حقیقت سے بعید ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق کل شام راجپورہ پلوامہ میں فورسز کیمپ پر گرنیڈ حملے کے بعد اہلکاروں نے بستی پر دھاوا بول کر رہائشی مکانات کی توڑ پھوڑ کی ۔ توڑ پھوڑ اور گرفتاریوں کے خلاف جمعہ کے روز راجپورہ میں مکمل ہڑتال سے زندگی ٹھپ ہو کررہ گئی جبکہ لوگوں نے سڑکوں پر آکر فورسز کے خلاف احتجاجی مظاہرئے کئے۔ مظاہرین کے مطابق فورسز اہلکار درمیانی رات کو راجپورہ کی بستی میں گھس گئے اور رہائشی مکانات کی توڑ پھوڑ کے ساتھ ساتھ مکینوں کا زد کوپ کیا۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ فورسز اہلکاروں نے دو نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لا کر انہیں نامعلوم جگہ منتقل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ کیمپ پر جنگجوؤں نے حملہ کیا تاہم مقامی لوگوں پر اس کا نزلہ گرانا صحیح نہیں ہے۔ جے کے این ایس نے اس ضمن میں جب دفاعی ترجمان کرنل راجیش کالیا کے ساتھ رابط قائم کیا تو انہوں نے مقامی لوگوں کے الزامات کو یہ کہہ کر مسترد کیا کہ ایسا کوئی واقع پیش نہیں آیا ہے۔ ترجمان کے مطابق پھیلائی جانے والی افواہیں حقیقت سے بعید ہے۔ تاہم مقامی لوگوں نے فورسز کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ رات کی تاریکی میں فوجی اہلکاروں نے ہی گاوں میں توڑ پھوڑ کی اور مکینوں کا زد کوپ کیا۔

LEAVE A REPLY