جے کے این ایس ؍ کرناہ سیکٹر میں پاک بھارت افواج کے درمیان شدید گولہ بھاری کا تبادلہ ہوا جس دوران کنٹرول لائن کے نزدیک رہائش پذیر لوگ گھروں میں سہم کر رہ گئے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق پاکستانی رینجرس نے بغیر کسی اشتعال کے بھارتی چوکیوں کو موٹار شیلوں سے نشانہ بنایا تاہم فوج نے بھی جوابی کارروائی کی اور رینجرس کے بندوقوں کو خاموش کردیا ۔ ادھر پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق بھارتی فوج کی بلا اشتعال گولہ باری کے نتیجے میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ایک خاتون ہلاک ہوئی ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق کل رات گیارہ بجے کے قریب کرناہ سیکٹر میں اُس وقت سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا جب پاک بھارت افواج کے درمیان اچانک گولہ بھاری کا تبادلہ شروع ہوا جو کافی دیر تک جاری رہا۔ عین شاہدین کے مطابق گیارہ بجے کے قریب پاکستانی رینجرس نے بی ایس ایف چوکیوں کو موٹار شیلوں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کے جنگلی علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دھماکوں سے لوگ گھروں میں سہم کررہ گئے۔ دفاعی ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ پاکستانی رینجرس کی گولہ بھاری کا سختی کے ساتھ جواب دیاگیا۔ادھر پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے علاقہ میرپور سماہنی کے سرحدی گاو?ں جھامرہ میں بھارتی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شدید فائرنگ کی۔ بھارتی فوج کی جانب سے ایل او سی پر رات بھر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جب کہ فضا میں روشنی کے گولے بھی فائر کئے گئے۔ اشتعال انگیزی کے نتیجے میں ایک مکان مکمل طور پر تباہ اور وہاں موجود شہری شہید ہوگیا۔ شہید شخص کی شناخت گفتار حسین کے نام سے ہوئی۔ پاک فوج نے بھی بھارتی چوکیوں پر گولہ باری کی اور منہ توڑ جواب دیتے ہوئے دشمن کی توپوں کو خاموش کرادیا۔دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر خنجر سیکٹر میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 51 سالہ گفتار حسین جاں بحق ہوا جو جمڑا گاؤں کا رہائشی تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے دشمن کی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جواب دیا اور ان کی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔خیال رہے کہ جس علاقے میں بھارتی فوج کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی، پاک فوج اس علاقے کو خنجر سیکٹر کے نام سے موسوم کرتی ہے۔واضح رہے کہ نومبر 2003 میں پاکستان اور بھارت کی افواج کے درمیان لائن آف کنٹرول پر ایک جنگ بندی کا تاریخی معاہدہ ہوا تھا۔رواں سال مئی میں دونوں ممالک ڈائریکٹر جنرل ملٹری ا?پریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان ہاٹ لائن سطح پر خصوصی رابطہ ہوا تھا اور دونوں موجودہ صورتحال کی بہتری، امن کو یقینی بنانے اور ایل او سی اور ورکننگ باؤنڈری پر شہریوں کی مشکلات کو چھٹکارا دلانے پر متفق ہوئے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز 2003 کے جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد پر من و عن عمل کرنے پر راضی ہوئے تھے، ساتھ ہی یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ دونوں اطراف سے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔ایس ایس پی ذوالقرنین سرفراز کا کہنا تھا کہ ’ حقیقت میں بھارتی فوج فوج جان بوجھ کر معصوم اور غیر مسلح شہریوں کو نشانہ بناتی ہے تاکہ ان میں پریشانی پیدا کی جاسکے، تاہم وہ پرعزم شہری آبادی کے حوصلے پست کرنے میں ناکام ہوگئے‘۔ادھر دھر راجوری کے سرحدی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی نقل وحرکت کی اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ۔ سرکاری عہدیدار کے مطابق مقامی لوگوں نے کئی بندوق برداروں کو آزادانہ طورپر گھومتے ہوئے پایا جس کے بعد پولیس کو اس کی اطلاع دی گئی ۔ سیکورٹی فورسز نے فوری طورپر نصف درجن کے قریب علاقوں کو محاصرے میں لے کر جنگجوؤں کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کی ہے۔ادھر کشتواڑ کے دور افتادہ علاقوں میں بھی سیکورٹی فورسز نے جنگجو مخالف آپریشن کے دوران گھر گھر تلاشی لی جس دوران مکینوں کے شناختی کارڈ چیک کئے گئے۔ ذرائع کے مطابق مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد نصف درجن کے قریب علاقوں کو محاصرے میں لے کر مکینوں سے پوچھ تاچھ کی گئی تاہم اس دوران کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔

LEAVE A REPLY