Home

جموں و کشمیر میں پہلے حد بندی پھر انتخابات، ریاستی درجے کی بحالی مناسب وقت پر: ڈاکٹر جیتندرا سنگھ

جموں، 6 جولائی  وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں پہلے اسمبلی نشستوں کی از سر نو حد بندی ہوگی اور پھر انتخابات ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ مناسب وقت پھر بحال کیا جائے گا جیسا کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد کرانے میں بی جے پی حائل نہیں ہے بلکہ یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا ہے۔
موصوف وزیر نے ان باتوں کا اظہار ایک نیوز پورٹل کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو کے دوران کیا ہے۔
انہوں نے کہا: ‘جموں و کشمیر میں فی الوقت حد بندی اور پھر الیکشن ہوں گے اور جیسے جیسے آگے بڑھتے جائیں گے باقی کام بھی عمل میں لائے جائیں گے’۔
جموں و کشمیر کو ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں ان کا کہنا تھا: ‘اس ضمن میں وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا تھا کہ مناسب وقت پر ریاستی درجے کو بحال کیا جائے گا’۔
موصوف نے کہا کہ جموں و کشمیر میں قریب ڈیڑھ صدی پرانی دربار مو کی روایت کے خاتمے کے حوالے سے کہا کہ اس روایت کے خاتمے کا ریاستی درجے کی بحالی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ ای گورننس کا ایک حصہ ہے اور اس روایت کے خاتمے سے قریب دو سو کروڑ روپے بچ گئے جو فائلیں لانے لے جانے میں صرف ہوتے تھے اور اس سے کافی وقت بھی ضائع ہونے سے بچ گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے چھوٹے تاجروں کے لئے مسئلے پیدا ہوئے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا بھی حل نکل آئے گا۔
مسٹر جیتندر سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں کب الیکشن ہوں گے یہ فیصلہ لینا الیکشن کمیشن کا کام ہے لیکن میں یہ صاف کرتا ہوں کہ بی جے پی ان انتخابات کو منعقد کرانے میں رکاوٹیں پیدا نہیں کرتا ہے کیونکہ ایسا کرنا غیر جمہوری عمل ہے۔
گپکار الائنس کو کل جماعتی میٹنگ میں بلائے جانے پر انہوں نے کہا کہ سیاست میں کسی کے ساتھ بھی بات چیت کی جا سکتی ہے اختلاف رائے ہوسکتا ہے لیکن بات چیت جاری رکھنے میں کوئی دقت نہیں ہے۔
موصوف وزیر نے کہا کہ کورونا میں نرمی کے ساتھ ہی وزیر اعظم کی پہلی میٹنگ جموں و کشمیر کے نمائندوں کے ساتھ ہی منعقد ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جموں و کشمیر کے لئے کافی آگے چلنے کے لئے تیار ہیں وہ کچھ  ایسا دینے کے لئے تیار ہیں کہ جس کی کوئی مثال نہیں ہے۔
یو این آئی

Leave a Reply