Home

وہ قوانین بھی منسوخ کئے جائیں جن سے جموں و کشمیر کے لوگوں کے حقوق چھینے گئے: پی ڈی پی

سری نگر،20  نومبر  پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر محبوب بیگ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے زرعی قوانین کی منسوخی کے اعلان کو جمہوریت کی جیت قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اب وہ قوانین بھی منسوخ کئے جائیں جن سے جموں و کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے حقوق چھینے گئے۔انہوں نے کہا کہ زرعی قوانین کو منسوخ کرنے سے یہ بات صاف ہوئی ہے کہ ملک میں عوام ہی طاقت کااصل سرچشمہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیر اعظم واقعی ’دل کی دوری اور دلی سے دوری‘ کی بات کرتے ہیں تو انہیں ہمیں بھروسہ دلانا ہوگا کہ یہاں حیدر پورہ جیسے واقعات دوبارہ وقوع پذیر نہیں ہوں گے۔موصوف جنرل سیکریٹری نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کے روز یہاں پارٹی ہیڈ کوارٹر پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرنے کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ’حیدر پورہ واقعے سے پورے قوم نے درد محسوس کیا اور ہم نے نا انصافی کے خلاف ایک ہو کر آواز بلند کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی اگر واقعی ’دل کی دوری اور دلی سے دوری‘ کی بات کرتے ہیں تو انہیں ہمیں، بچوں اور لواحیقن کو بھروسہ دلانا ہوگا کہ یہاں ایسے واقعات اب وقوع پذیر نہیں ہوں گے اور یہاں آکر ہمارا درد بانٹنا ہوگا‘۔مسٹر بیگ نے ملک کے دانشوروں سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کو اجنبی نہ سمجھیں بلکہ انہیں ہی اپنا سمجھیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی طرف سے زرعی قوانین کی منسوخی کا اعلان کسی پارٹی کی ہار یا جیت نہیں ہے بلکہ یہ جمہوریت کی جیت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس اعلان سے یہ بات صاف ہوئی ہے کہ ملک میں طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہی ہے نہ کہ پارلیمنٹ۔موصوف جنرل سیکریٹری نے کہا کہ اسی طرح ان قوانین کو بھی منسوخ کرنے کی ضرورت ہے جن سے پانچ اگست2019  کے بعد جموں و کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے حقوق چھینے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب سے غلطیاں ہوئی ہیں اور ہمیں ماضی میں جھانکنے کی بجائے ان غلطیوں سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔مقامی جنگجوؤں کی لاشوں کو لواحقین کے حوالے کرنے کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا: ’جنگجو ہو، ملک دشمن عنصر ہوں یا دہشت گرد ہوں، لاشوں کو لواحیقن کے حوالے کیا جانا چاہئے‘۔مسٹر بیگ نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن کے وجود کا مقصد ہی یہ تھا کہ ہم حقوق کے لئے مل کر آواز اٹھائیں۔اہوں نے کہا کہ ہماری جماعت پتھر بازی اور بندوق اٹھانے کے بجائے پر امن احتجاج سے اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کی حمایت کرتی ہے۔یو این آئی

Leave a Reply