Saturday, December 3

کشمیر کے میدان: انڈین پرائمر لیگ کے منتظر!

آج کی تاریخ میں کسی بھی متمدن سماج کا اسپورٹس کے بغیر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ آج کی تاریخ میں اسپورٹس محض تفریح کا سامان نہیں رہا ہے۔ بلکہ اس کے سوتر بین الاقوامی سطح پر جہاں سیاست سے جُڑی ہوئی ہیں وہی بین الملکی سطح پر اسکے تار معشیت اور تجارت سے جُڑ چکے ہیں۔آج کی تاریخ میں جہاں ایک متمدن سماج کی پہچان اسکی ایجوکیشن، معشیت اور ٹیکنالوجی سے ہے وہی اس پہچان کا ایک بڑا حصہ اسپورٹس بھی ہے۔
ریاست جموں کشمیر میں، بالخصوص صوبہ کشمیر میں، دہشت گردی نے سماجی زندگی کے ہر شعبے کو تعطل کی نذر کیا تھا۔ اس تعطل کی لپیٹ میں جہاں ایجوکیشن، معشیت اور تجارت تھی وہی اسکی گرفت سے اسپورٹس کیسے بچ سکتا تھا۔ دہشت گردی نے اگرچہ بلا امتیازسماج میں سب کو متاثر کیا لیکن اسکی سب سے زیادہ مار جوان پر ہی پڑی۔ اور چونکہ اسپورٹس میں سب سے زیادہ اپیل جوان کے لیے ہے مگر بدقسمتی سے جب جوان ہی لپیٹ میں تھا تو بھلااسپورٹس کو کون پوچھتا!
سال 2022 میں ریاست بھر میں اسپورٹس نے ایک لمبے تعطل کے بعد ایک لمبی سانس لی۔ بالخصوص صوبہ کشمیر میں شہر کیا، قصبہ کیا، گاؤں گاؤں میں کر کٹ کے ٹورنمنٹ کھلیے گئے۔لوگوں کے لیے جہاں اسپورٹس میں تفریح کا سامان ہے وہی کشمیر میں یہ لوگوں کے ایک بہت بڑی نفسیاتی راحت ہے۔ کیونکہ کشمیر میں پچھلے تیس تنتیس سالوں سے لوگ مسلسل دہشت گردی کی وجہ سے ڈر اورانسکورٹی کی منفی نفسیات میں مبتلا ہوکر زندگی جی رہے ہیں۔ انٹرنیشنل جرنل ہیلتھ سائینس نے 2009 کے جولائی شمارے میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ دہشت گردی کی وجہ سے کشمیر میں ڈیپرشن بہت بڑا نفسیاتی روگ ہے۔اور بتایا گیا ہیکہ 55 فی صد ٍ لوگ ڈپرشن کے روگی ہیں۔ گو کہ رپورٹ میں انسکورٹی کے ساتھ ساتھ بے روزگاری اور غربت بھی اس نفسیاتی بیماری کے فیکٹر بتائے گئے ہیں مگر اگر ذرا گہرائی میں جا کر دیکھا جائے کشمیر میں اس بے روزگاری اورغربت کے پیچھے سب سے بڑی وجہ یہی دہشت گردی ہی تو ہے۔
اگرچہ دہشت گردی کا مکمل قلاقمع تو ہوا نہیں ہے مگر ڈر اور انسکورٹی کے منفی احساسات پر لوگ قابو پانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کھیل کے میدانوں میں لوگ کرکٹ، فٹ بال اور وولی بال کے کھیلوں سے راحت لیتے ہیں۔ اور شام تلک میدانوں میں بیٹھ کر گپ شپ کرتے ہیں۔ گذشتہ تیس سالوں میں پہلی بار جوانوں کی اسپورٹس میں اسطرح کی دلچسپی اور گہما گمہی دیکھی جا رہی ہے۔ اور اسطرح کی بڑی تعداد میں لوگوں کی میدانوں میں موجودگی ملتی ہے۔ یہ حالات اس بات کا کھلا عندیہ ہے کہ کشمیر کے لوگ ڈر اور خوف سے نکل رہے ہیں، جس ڈر اور خوف کی بنیاد پر دہشت گردوں نے تیس سال اپنی دہشت گردانہ سیاست چلائی ہے۔
ریاست کی گورمنٹ بھی اسپورٹس کے شعبے میں اپنا زبردست تعاون دی رہی ہے۔ جموں کشمیر کا اسپورٹس بجٹ ملک کی باقی ریاستوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ حال ہی میں 59 کروڑ کی لاگت سے بخشی اسٹیڈیم کی اپگریڈنگ کی گئی اور اسے انٹرنیشنل اسٹنڈاڑ کے درجہ میں لایا گیا ہے۔ کھیل گاؤں نگروٹہ میں سینتٹک فٹ بال ٹرف پانچ کروڑ کی لاگت سے بنایا گیا ہے۔ اسی طرح بہور کیمپ منی اسٹیڈیم کی تعمیر جسمیں کر کٹ کے ساتھ ساتھ وولی بال اور کبڈی جیسے گیم بھی کھیلے جائیں گے۔ پولو ویو گراونڈ کشمیر میں فٹ بال اور کرکٹ کے لیے الگ الگ بہت ہی بہتر انتظامات کیے گیے ہیں۔ ان میدانوں میں روشنیوں کا جدید انتظام کرکے ڈے اور نایٹ کرکٹ میچ بھی کھیلے جا سکتے ہیں۔ رات میں بجلی کی روشینوں میں آج کی تاریخ میں کشمیر میں فٹ بال کھیلا جاتا ہے۔ جو دو یا تین سال قبل کشمیر کے اندر سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔
ریاست بھر میں جوان لوگ اسپورٹس میں بھر پور شرکت کر رہے ہیں۔ اور گورمنٹ بھی دل کھول کر اس میں اپنا تعاون دے رہی ہے۔ اسطرح ریاست میں اسپورٹس جدید طرز پر آگے بڑھ رہا ہے۔ باصلاحیت جوانوں کے لیے امیدوں کے دروازے کھل رہے ہیں اور ان امیدوں کو پورا کرنے لے لیے ریاست بھر میں آسائشیں اور سہولتیں فراہم بھی کی جا رہی ہیں۔
دنیا کا پہلا اور سب سے بڑا کرکٹ لیگ آئی۔پی۔ایل ہمارے ملک کے اندر کھیلا جاتا ہے۔ اور ملک کی مختلف ریاستوں میں اسکے میچ کھیلے جاتے ہیں۔ کرکٹ کے اس بڑے منچ پر با صلاحیت جوان نکھر جاتے ہیں۔ پیسہ کے ساتھ ساتھ عزت اور شہرت بھی کماتے ہیں۔اب وہ دن دور نہیں ہے جب کشمیر کے میدانوں میں بھی ملک اور دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ ٹورنامنٹ آئی/پی/ایل کے میچ کھیلے جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: