Friday, November 25

ٹیریٹوریل آرمی کی فوجی کی حیثیت سے عام شہری کی ذمہ داری اور چلینج

بچپن میں میرا خواب رہا کہ میں فوج میں بھرتی ہوکر بہادری کی داستان رقم کرلوں ، میں بچن سے ہی فوجی وردی دیکھ رہا ہوں کیوں کہ میرے داداجان، میرے والداور میرے چچافوج میں اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں ۔ انہوںنے کئی مراحل دیکھے جنگیں لڑیں اور دشوار گزار علاقوں میں ڈیوٹی دی ہے ۔ معاشرے میں جمہوری حکومت اور فوج کے درمیان ایک مضبوط رشتہ ہوتا ہے کیوں کہ وردی میں ملبوس ایک فوجی سپاہی اصل میں معاشرے کا ایک عام شہری ہوتا ہے اور یہ مقام اسے منفرد بناتی ہے تاہم فوجی وردی چننے کے بعد انہیں کئی بنیادی حقوق ملک کےلئے ترک کرنے پڑتے ہیں اور ملک و قوم کےلئے یہ جانیں نچھاور کرنے کےلئے تیار ہوتے ہیں۔ بچن سے ہی میں ایک فوجی کنبہ کا حصہ ہونے کی وجہ سے میں فوجی اہلکاروں کی زندگی کے تجربات سے واقف ہوں ۔ سکول میں بھی میں اپنے ہم جماعت بچوں کے ساتھ فوجیوں کی لڑائی، ہتھیاروں اور دیگر معاملات پر بات کرتا تھا ۔سکول کے بعد کالج اور پھر ماسٹرس ڈگری مکمل کرنے کےلئے میں نے اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز کی اور مجھے پیشہ وارانہ ماڈلنگ جیسی دیگر دلچسپیوں کو اپنانے کا موقع ملا۔ میں نے کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں کام کیا ہے جیسے ائیر ٹیل، ایل جی، ماروتی وغیرہ کےلئے میں نے ماڈلنگ کی ہے جس کے نتیجے میں میرا نام اخباروں اور رسالوں میں چھپتا رہا ۔ ہر ایک نئے تجربہ کے ساتھ میں سیکھتا ہی گیا۔میں نے امریکن ایکسپریس ، این آئی آئی ٹی اور بین آف امریکہ جیسے برانڈس کے ساتھ کام کیا جس دوران مجھے اپنے علم کی بنیاد کو بڑھانے اور اپنی انتظامی صلاحیتوں کو بڑھانے کی اجازت دی۔ میں نے کئی انتظامی سرٹیفیکیشن پروگرام مکمل کیے اور مختلف جغرافیائی علاقوں میں پھیلے زیر نگرانی پروجیکٹس پر کام کرنے کا موقع ملا۔ ان پراجیکٹس پر کام کرنے سے مجھے ثقافتوں کے درمیان فرق کو تسلیم کرنا اور ایک مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے ان فرقوں پر غور و فکر کرنے کے علاوہ مجھے نئی ٹیکنالوجیز، میڈیا اور نوجوان ذہنوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ اس نے مجھے چیلنجوں کو قبول کرنا اور اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلنے کے لیے خود کو تیارکرنا سکھایا۔کارپوریٹ کی چکا چوند والی دنیا میں ہونے کے باوجود بھی میں ہمیشہ وردی پوش مردوں اور خواتین سے گھر رہا کیوںکہ میرے گھر کا ماحول ایک فوجی ماحول تھا جس میں میں نے جنم لیا تھا اور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تھا ۔ کارپوریٹ دنیا میں میری بے مثال کامیابیوں کے باجود بھی میں مطمین نہیں تھا اور اندر سے آواز آرہی تھی کہ کچھ غلط ہورہا ہے ۔ مجھے فوجی خدمات انجام دینے کی کمی محسوس ہورہی تھی اور صبح و شام میں اسی خیال میں رہتا تھا کہ میں اپنے ملک اور قوم کےلئے کچھ بھی نہیں کرپایا ۔ بالآخر 35برس کی عمر میں سال 2011میں نے کارپورٹ کی چکاچوند والی دنیا کو خیر باد کہا اور ٹیریٹوریل آرمی میں شمولیت اختیار کی ۔ اگرچہ میرے آس پاس کے چند لوگوں نے مجھے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ میں ایک سخت قدم اٹھا رہا ہوں اور اتنا کچھ ترک کر رہا ہوں جو میں نے حاصل کیا تھا۔اس کے باجود بھی میں نے اپنے بچن کے خواب کو پورا کرنے کی ٹھان لی ۔ یونیفارم پہننے کے اپنے بچپن کے خواب کو پورا کرنا بلا شبہ زندگی کا مقصد تھا جسے میں حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اگرچہ میں ایک فوجی گھرانے میں پلا بڑھا ہوں، لیکن وردی اور اسپرٹ ڈی کور اور مسلح افواج کی ہمدردی کی دلکشی بے مثال ہے۔ اس بات کو گیارہ سال ہو چکے ہیں، اور ہر روز ایک آرمی آفیسر کے طور پر جاگتے ہوئے، فخر کا احساس اب بھی ناقابل بیان ہے۔ ایک فوجی کے طور پر خدمات انجام دینے سے مجھے ہندوستانی فوج کو ایک نئی جہت سے سمجھنے کا انوکھا موقع ملا، جس سے زیادہ تر شہری اور بہت سے لوگ جو باقاعدہ فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں وہ بھی شاید ناواقف ہوں۔

چونکہ میں ٹیریٹوریل آرمی کا حصہ ہوں اس لئے اس کا صحیح مفہوم سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ ہندوستانی فوج ریگولر آرمی، آرمی ریزرو اور ٹیریٹوریل آرمی پر مشتمل ہے۔ علاقائی فوج کو مزید دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، محکمانہ اور غیر محکمانہ علاقائی فوج۔ محکمانہ علاقائی فوج میں ریلوے، او این جی سی اور انڈین آئل شامل ہیں۔ غیر محکمانہ ٹیریٹوریل آرمی میں انفنٹری، ہوم اینڈہیرتھ اور ایکولوجیکل ٹاسک فورس شامل ہیں۔ مسلح افواج شناخت، وفاداری اور ذمہ داری کے اٹوٹ بندھن پر قائم ہیں، جو کہ علاقائی فوج کے اہلکاروں کی ایک موزوں وضاحت ہے، جو جمہوری نظام میں نہ صرف شہری ہیں بلکہ محافظوں کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ وہ شہری جو علاقائی فوج میں شامل ہوتے ہیں، جو ایک ہمہ گیر رضاکار فورس ہے، جذبے اور وفاداری سے سر شار ہوتے ہیں۔وہ شہری اور سپاہی دونوں لباسوں کے پابند رہتے ہیں وہ فوج میں رہ کر ایک عام شہری کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنی خدمات انجام دیتے ہیںجبکہ دوسری طرف عام شہری کے طور پر فوجی خدمات انجام دیتے ہیںاور یہ ایک انوکھا سنگم ہے ۔ ٹیریٹوریل آرمی کا اہلکار ہر وقت ملک کی خدمت کےلئے تیار رہتا ہے کسی بھی ایمرجنسی یا جنگ کے وقت وہ اپنے فرائض انجام دہی کےلئے تیار رہتے ہیں ۔ اور ٹیریٹوریل آرمی کے سپاہی باقاعدہ فوج کی طرح تمام فرائض انجام دیتے ہیں اور اس کے علاوہ ان کے لیے مخصوص کردار ہوتے ہیںمقامی علاقے سے واقفیت ہونے کے سبب وہ انٹیلی جنس ، ماحولیاتی ٹاسک فورس کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ جموں کشمیر اور شمالی مشرق ریاستوں کے ٹیرٹوریل آرمی کے افسران اور سپاہی عام شہری ہونے کے ناطے سیولین آبادی کے ساتھ بہتر تعلقات رکھتے ہیں کیوں کہ انہیں سماجی لحاظ سے لوگوں کے ساتھ رابطہ رکھنا بھی ذمہ داری کا حصہ ہے ۔

فوج کے باقاعدہ اہلکاروں کے برعکس، جو ریٹائرمنٹ تک مسلسل خدمات انجام دیتے ہیں، علاقائی فوج کے افسران کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ کل وقتی یا جز وقتی بنیادوں پر خدمت کریں۔ انہیں ضرورت کے حساب سے ہر طرح کی تربیت فراہم کی جاتی ہے ۔ٹیریٹوریل آرمی کے تمام رینکوں کے اہلکار ہمیشہ کسی بھی خدمت کےلئے تیار رہے ہیںچاہے وہ جنگی صورتحال ہو ں یا کوئی قدرتی آفت کی ہنگامی صورتحال ہوں۔ وہ سیولین افراد کی مدد کو اپنا شعائر سمجھتے ہیں فوجی اہلکار اگر گھروںمیں بھی ہوتے ہیں تب بھی وہ قومی خدمات کے لئے تیار رہتے ہیں۔ جس طرح ایک کسان ہمیشہ تیار رہتا ہے اسی طرح ایک فوجی اہلکار بھی ہمیشہ تیار رہتا ہے دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک فوجی ایک وقت میں ایک کسان اور ایک کسان ایک وقت میںایک فوجی بھی ہوتا ہے جو ملک اور قوم کی خدمت اپنا فرض سمجھتا ہے ۔ میں خوش قسمتی سے علاقائی فوج کو تین زاویوں سے سمجھتا ہوں ، ریگولر آرمی میں خدمات انجام دینے والے افسران کے بیٹے اور بھائی کے طور پر ایک سویلین شہری کے طور پر اور خود ایک سپاہی کے طور پر،اس زاﺅے نے مجھے فوجی نظم و نسق کو بہتر ڈھنگ سے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ہمت دی ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ حقائق جو ایک سویلین شہری ہونے اور سپاہی ہونے میں فرق کرتے ہیں۔ مجھے ماڈلنگ، میڈیا اور کارپوریٹ سیکٹر میں اپنی دلچسپیوں سے حاصل ہونے والی معلومات کو آرمی میں اپنے کام میں ڈالنے کا موقع ملا ۔ اس کے علاوہ میں ایک عام شہری کی مشکلات سے بھی واقف ہوا ہو ں کہ ایک عام شہری کن حالات کا سامنا کرتا ہے اور کن چلینجز اس کے سامنے ہوتے ہیں ۔ ان کے لئے کون سی بات اہم ہے اور فوج کو وہ کس نظریہ سے دیکھتے ہیں ۔ ان دونوں نکات نے مجھے فوج اور شہری نقطہ نظر کے درمیان توازن قائم کرنے میں مدد کی ۔خاص طور پر وادی کشمیرکے پہاڑی اور سرحدی ضلع کپوارہ میں منیجمنٹ ، پرسپشن اینڈ وارفیر انفو پروجیکٹس پر کام کرتے ہوئے خاصا تجربہ رہا ۔ میرے تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ وادی کشمیر کے نوجوان فوج سے قریبی رشتہ رکھنا چاہتے ہیںتاہم حالات کے سبب فوج اور جوانوں کے درمیان دوری بڑی تھی ایک اور بات میرے مشاہدے میں آئی ہے کہ عام شہری کی ایک فوجی پر کافی امیدیںوابستہ ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: